محترم المقام ، پیکر علم و اخلاص جناب تنویر رضا برکاتی صاحب دام ظلہ ۔ السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
خیریت طرفین نیک مطلوب !
۱۹ / مارچ ۲۰۲۳ ء کی ڈاک سے آپ کی ارسال کردہ تحقیقی و تاریخی کتاب " تاریخِ زر نگار برہان پور " موصول ہوئی ۔ راقم الحروف آپ کی علمی و ادبی اور تنظیمی و اشاعتی سرگرمیوں سے پہلے ہی سے واقف تھا ۔ ماشاء اللہ ! اس کتاب کی زیارت سے بے پناہ قلبی مسرت ہوئی ۔ اللہ تعالی آپ کی خدماتِ جلیلہ کو شرفِ قبولیت عطا کرے اور آپ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے ۔ آمین !
برہان پور ( جو دار السرور ، مدینۃ الاولیاء اور بابِ دکن کے نام سے موسوم ہے ) اپنے جلو میں تقریباً سات سو سالہ سنہری تاریخ رکھتا ہے ۔ سیاست سے قطعِ نظر اس با وقار خطے کو بہت سارے علمی و ادبی اور روحانی امتیازات و خصوصیات حاصل ہیں ۔ شہرِ برہان پور کو اکابر علما و مشائخ کی جنم بھومی ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ رئیس المحدثین حضرت شیخ علی متقی علیہ الرحمہ اسی پاک سر زمین سے اٹھے تھے ، جن کی بلند پایہ تصنیف " کنز العمال " کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے ۔
حضرت برہان الدین غریب اور حضرت بہاء الدین باجنؔ کی قابلِ قدر خدمات سے آج بھی برہان پور کا چپہ چپہ روشن ہے ۔ تاریخِ ادب کے محققین سے یہ امر مخفی نہیں کہ اردو زبان کا ابتدائی سفر " ریختہ " سے شروع ہوا ہے اور حضرت شیخ سعدی دکنی ( جو حضرت امیر خسرو دہلوی کے ہم عصر ہیں اور جن کا مزارِ پُر انوار برہان پور سے ۲۲ / کلو میٹر دور شیر پور میں مرجعِ خلائق بنا ہوا ہے ) ریختہ کے موجدین میں تھے ۔ ولیؔ دکنی جن کی شاعری پر اردو ادب کو ناز ہے ، ان کے استاذ سعد اللہ گلشنؔ اسی پاک سر زمین کے نام ور سپوت تھے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سعد اللہ گلشنؔ کے کہنے پر ہی ولیؔ دکنی نے دہلی کے ایک فارسی مشاعرے میں اردو غزل پیش کر کے اردو شاعری کی ایک نئی صبح کا آغاز کیا تھا ۔ صائب تبریزی نے برہان پور کے انہیں فضائل و خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا :
ہزار حیف کہ عرفیؔ و نوعیؔ و سنجرؔ
نیند جمع بہ دار العیار برہاں پور
کہ قوتِ سخن و لطفِ طبع می دیدند
نمی شدند بہ طبعِ بلند خود مغرور
زیرِ نظر کتاب " تاریخِ زر نگار برہان پور " جو ۶۵۰ / سالہ تاریخی و ادبی منظر نامے کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ، صوری و معنوی لحاظ سے قابلِ قدر ہے ۔ یہ مرقعِ تاریخ بیک وقت بہت سارے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے اور دار السرور شہرِ برہان پور کی علمی ، ادبی ، روحانی اور سیاسی تاریخ سے قارئین کو آگاہ کرتا ہے ۔ راقم کی ناقص رائے کے مطابق از سرِ نو کتابیں تحریر کرنے کے بجائے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ قدیم کتب و رسائل ، جو لائبریریوں اور ذاتی کتب خانوں میں دیمک کی نذر ہو رہے ہیں ، ان کو تحقیق و تسہیل کے مراحل سے گذار کر زیورِ طباعت و اشاعت سے آراستہ کیے جائیں ۔ جناب حمید الحق فہمیؔ صاحب ( سکریٹری سیفیہ حمیدیہ یونانی طبی ایجوکیشن سوسائٹی ، برہان پور ) اور دار السرور ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی ، برہان پور ، ایم پی کے اراکین قابلِ مبارک باد ہیں ، جن کی انتھک کوششوں سے یہ گراں قدر تاریخی کتاب منظر عام پر آئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے جملہ رفقائے کار کو سلامتِ با کرامت رکھے اور زیادہ سے زیادہ دینی و علمی خدمات انجام دینے کی توفیق ارزاں فرمائے ۔ آمین ! اللہ بس باقی ہوس
فقط و السلام مع الاکرام
محمد طفیل احمد مصباحی
۲۱ / مارچ ۲۰۲۳ ء ، بروز منگل

0 Comments