تیرے اطوارِ کریمانہ شریعت باجن
تیرے کردار پہ نازاں ہے طریقت باجن
بخت جاگے مرا چمکے مری قسمت باجن
میں بھی کرلوں تیرے چہرے کی زیارت باجن
تو سخی ابنِ سخی ابنِ سخی ابنِ سخی
تیری دہلیز کی باندی ہے سخاوت باجن
ایک پل میں تو مقدر بھی بدل سکتا ہے
ربِ قادر نے تجھے بخشی ہے وہ قدرت باجن
تیرے دامن کو نہ ہاتھ سے چھوڑنگے کبھی
آسماں ٹوٹے کہ آجائے قیامت باجن
سب کے بگڑے ہوئے حالات بنانے کے لیے
تیرا دربار خدا رکھے سلامت باجن
تیری ٹکسال میں ڈھلتے رہیں تیرے سکّے
روزوشب اور بڑھے تیری حکومت باجن
جس کے دل میں ہو تیری یاد کا سورج روشن
قبر میں اس کی نہ رک پائے گی ظلمت باجن
متفق ہیں مری اس بات سے سب لوگ "ایاز"
خاصّہ تیرا ہے لاریب صداقت باجن
از
ہارون ایاز قادری، برہان پور
0 Comments